پاکستان کی بقا

پاکستان کی سول و فوجی قیادتوں کو پاکستان کی بقا کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ پورے ملک کی نمائندہ جماعتوں کو ایک پیج پر لانا ہوگا چاہے وہ ناراض رہنما ہی کیوں نہ ہوں جو وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات اور اندرونی معاملات کےماہرین سے بھی مشاورت کی جائے۔ ملک کے ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے متحرک افراد کو بھی ملک میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا ادراک ہے تو ان سب کو بھی اعتماد میں لیکر ایک منظم لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکو ملک میں رائے عامہ استوار کرنے کیلئے استعمال کیا جائے جبکہ پروپیگنڈہ مشینری کو فعال بنا کر نفسیاتی جنگ کا بھر جواب دینے کیلئے مستحکم کیا جائے۔
پروردگار ملکِ پاکستان کے تمام دشمنوں کو تباہ و برباد کر کے نشانِ عبرت بنا دے اور ہم سب کو ایک قوم بنا دے، آمین

#پاکستان_ہماری_جان #پاکستان_زندہ_باد #پاکستانی_قوم_پائندہ_باد

Advertisements

توقعات

ہم ایک دوسرے سے توقعات نہ رکھیں، ہر کوئی سمجھانا چاہتا ہے جبکہ یہ کسی خاص بندے کیلئے تو ہوسکتا مگر ہر کسی کیلئے یہ محال ہے کیونکہ ہمیں لامحالا ایک دوسرے سے توقعات رکھنی ہی پڑتی ہیں۔ جو شخص کسی دوسرے کی توقعات پر پورا اُترتا ہے وہ یقیناً انسان کہلائے جانے کے قابل ہے اور وہی معتبر بھی سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس شخص اپنی وقعت کھودیتا ہے کیونکہ ہم سب معاشرے میں ایک دوسرے سے الگ رہ ہی نہیں سکتے اور جو توقعات نہ رکھنے کی گردان لگاتا ہے دراصل وہ بھی اسی معاشرے میں اپنی بات پر دوسروں کا اتفاق ہی تو چاہتا ہے۔ 

خالص اللّٰہ والے ہی پاک پروردگار سے اپنی تمام توقعات وابستہ رکھتے ہیں جبکہ عام بندے کیلئے یہ بات ایسی ہی ہے جیسے نرسری کے طالب علم سے پی ایچ ڈی کے معیار کا سوال پوچھنا۔

جو ہم جانتے ہیں بس اسی کے گرد باؤلی بھیڑ کی طرح دوڑتے رہتے ہیں جبکہ نئی معلومات ہمارے لئے #دقیانوسی خیالات سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں اور ہم کنویں کے مینڈک کی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ آخری بات کسی انسان کی ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ تبدیلیاں ناگیر ہیں۔ اللّٰہ اور بندے کا فرق یہی ہے کہ ہم ہر چیز کیلئے توقعات رکھیں گے جبکہ وہ ہر چیز کا واحد مالک ہے اور عطا کرنے والا ہے۔

پاک پروردگار ہم سب کو علم کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین 

#مشک_بیانیاں

پاکستانی پرچم کی حرمت

  پاکستانی پرچم کی حرمت ہم سب پر واجب ہے تو جہاں بھی زمین پر گرا دیکھیں تو اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر اسے اُٹھالیں۔ ایسا کرنا آپ کی وطن سے محبت واضح کرے گا جبکہ زمین پر گرے #جھنڈیوں کی تصاویر فیسبک پر شائع کرکے آپ اپنی ہی عزت و وقار کی بدنامی کا موجب بن رہے ہیں۔ 

ویسے تو رزق بھی ہم نے راہ گزر پر گرا دیکھا ہے مگر اسکی حرمت کا خیال کرتے ہوئے چوم کر کسی محفوظ جگہ پر رکھناپروردگار کی جانب سے توفیق جانی۔

اپنے معاشرے کے بدنما داغ دنیا کو دکھانے سے کوئی فائدہ نہیں وہ اغیار کرلینگے جبکہ ہمیں ان برائیوں کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنےچاہیئے تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ملے اور تحریک ہر پاکستانی میں جاگ اُٹھے۔ 

پاک پروردگار ! ہم سب کے حال پر رحم فرمائے، ہم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے، آمین 

پاکستان بنانے والوں کی اولادیں دربدر کیوں ؟ 

پاکستان بنانے والوں کی اولادیں دربدر کیوں ؟ 
ایک سازش کے تحت پاکستان کے ہر سرکاری ادارے سے انکی پہنچ کو مشکل بنایا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان ہی کی انتھک محنت سے تمام سرکاری اداروں بہ شمول پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی کی بنیاد پڑی مگر ان کی قربانیوں کا سلا ان کو محرومیوں سے دیا گیا۔ ایک مائنڈ سیٹ ان کو برداشت کرنے سے بھی گریزاں نظر آتا ہے۔ 

ہمارے سیاستدان، دانشور اور دیگر سول سوسائٹی کی اہم شخصیات جو کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کی خاموشی ایک جرم بنی ہوئی ہے مگر کیا کسی کو آگے کا کچھ دکھائی نہیں دے رہا یا نظر انداز کرنے کی اداکاری میں کہیں نفرت کا کاروبار میں شریکِ جرم تو نہیں ؟

لکھاری کو غیر جانبدار ہونا چاہیئے مگر یہاں پیسے کی چکاچوند نے اچھے خاصےپڑھے لکھے دانشور اور صحافی حضرات کو بھی ضمیر فروشی پر مجبور کردیا ہے جو کہ قابلِ تشویش ہے۔ جس کا خمیازہ پوری قوم کو بگھتنا پڑے گا۔

مزکورہ بالا سطور ایک ایسے ہی ایک محبِ وطن پاکستانی سے گفتگو کے بعد لکھی گئی۔ راقم کو ان کی باتوں میں سچائی معلوم ہوئی اور قوم کا درد بھی محسوس ہوا۔ انکا کہنا تھا کہ ایسا ہی کچھ ہمارے تعصب رکھنے والوں نے بنگالیوں کے ساتھ کیا تھا اور رہی سہی کثر پاکستان کے دشمنوں نے موقع دیکھ کر نکال دی اور ہم دولخت ہوگئے۔

وفاق کا کام صوبوں کو ایک ساتھ لیکر چلنا ہوتا ہے۔ ان کے درمیان دوریوں کا سدِباب کرنا ہوتا ہے۔ جن اقدمات سے نفرتیں بڑھ رہی ہوتی ہیں۔ ان کا از سرِ نو جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس اقدام سے کسی صوبے کے تحفظات تو نہیں اور اگر ایسا ہو تو ان کے خدشات کو دور کر کے ایک نقطہ پر جمع کیا جاتا ہ تاکہ تمام صوبوں میں یکجہتی رہے۔ جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومتوں کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلنا ہوتا یے۔ صوبائی حکومتوں کو بھی وفاق کی طرز پر باہمی اتفاق برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ تمام جماعتوں کے تحفظات کا احترام لازم یے اور افہام تفہیم سے تمام معاملات کو لیکر چلا جاتا ہے۔

اگر وفاق اور صوبائی حکومتیں ٹھیک ٹھیک اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہوتی ہیں تو ملک ایک مستحکم حثیت کا حامل ہوتا ہے اور درپیش تمام چلینجیز کا مقابلہ کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ جس میں اندرونی و بیرونی خطرات سےنمٹنے کی صلاحیت بھی شامل ہوتی ہے۔

یہاں ایک مثالی ریاست کا خاکہ کھینچا گیا ہے باقی قارئین خود سوچنے سمجھنے اور اخز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ہمارے یہاں پنجابیوں کیخلاف غصہ کیوں پایا جاتا ہے اور بلوچ، سرائیکی اور مہاجر قوم جو کہ محبِ وطن ہیں جیسے دوسرے پاکستان کے باسی ہیں تو پھر کیوں ایک قسم کا مائنڈ سیٹ انکا استحصال کرنے پر تلا ہوا ہے؟ سوال چھوڑے جانا ضروری ہے۔

آپ کی رائے راقم کیلئے قیمتی اثاثہ ہے اور جبکہ اختلاف سے مثبت بحث کا قوی امکان موجود ہے۔

دعاؤں اور محبتوں کی درخواست
#شہزادمشک

ڈھونڈتا کیا ہے تو لکیروں میں

ڈھونڈتا کیا ہے تو لکیروں میں
بیٹھ کے آ کبھی فقیروں میں

اب یہاں ہر گھڑی ہے فتنوں میں
دوستی رکھ تو با ضمیروں میں

وقت کو جو بھی کل گنوا بیٹھے
ہیں وہی وقت کے اسیروں میں

جن سے راضی ہے مالکِ دو جہاں
ہیں محمد ﷺ کے وہ سفیروں میں

جنکی عادت تھی مشک تنقیدکی
عیب ڈھونڈیں گے کیا نکیروں میں

خودی آگ ہر سو ہے ہم نے لگائی

خودی آگ ہر سو ہے ہم نے لگائی
خدا ہے برا نا خدا کی خدائی

دکھا دےمجھے راستہ یا الہٰی!
ملے پھر وہی بس ہو جس میں بھلائی

مقدر میں لکھ دے مری حاضری تو
میں جاؤں مدینے نہ پھر ہو جدائی

مجھے مال وذر کی تمنا نہیں ہے
ترے درکی مجھکو ملے بس گدائی

کرم کر الہٰی ! میں بندہ ترا ہوں
وسیلہ نبی ﷺ کا زباں پے دہائی

تکبر کریں جو کہو مشک ان سے
بڑا نام رب کا اسی کی بڑائی

دکھ بھری داستاں میں جاؤں کہاں

دکھ بھری داستاں میں جاؤں کہاں
چھپ گیا آسماں میں جاؤں کہاں

تم مجھے چھوڑ کر گئے تھے جہاں
میں ابھی تک وہاں میں جاؤں کہاں

اس کے پیچھے ہی تھا تو کیوں مٹ گیا
راستے کا نشاں میں جاؤں کہاں

ڈھونڈتا ہی رہا میں مولا تجھے
تو کہاں ہے نہاں میں جاؤں کہاں

آگ نفرت کی ہر طرف لگ گئی
اب دھواں ہی دھواں میں جاؤں کہاں

مشک مخلص یہاں تو کوئی نہیں
چھوڑ کر یہ جہاں میں جاؤں کہاں

آزاد خیالی کے مضر اثرات

آزاد خیالی کے مضر اثرات
آزاد خیال لوگ ، وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی بہن بیٹیوں کو یہ کہہ کر پردہ نہیں کرواتے کہ پردہ تو آنکھ میں ہوتا ہے۔

اور جب انکی بہن بیٹی کو چھیڑا جاۓ تو ان کی بہن بیٹیاں کہتی ہیں کہاگر ہم پردہ نہیں کرتے اور فیشن کے مطابق چست لباس پہنتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر کویٔ ہمیں آوازیں کسے۔۔۔

اور دوسرا یہ فیس بکنگ نے تو جیسے بے لگام ہی کردیا۔ یہاں بھی آزاد خیال لوگ اپنی بیٹیوں کو فیس بک سے مکمل استفادہ حاصل کروااتے ہیں اور اُنکو کھلی آزادی دے رکھی ہے کہ وہ آزاد معاشرے کا اہم فرد ہیں تو اُن کو اپنی ہر چیز کھل کر فیس بک کے توسط سے دوسروں کو شیٔر کرنی چاہیٔے۔۔۔ اسطرح وہ اپنی تصویروں کو شیٔر کرنے تک پہنچ گیٔں اور ان کی تصویروں پر ڈھیر سارے پسندیدگی کے پیغامات بھی مل جاتے ہیں اور پھر جب ان کی تصویریں جگہ جگہ ہر جگہ فیس بک پر مختلف گروپس اور پیجز کی زینت بنتیں ہیں تو ان کے وہی آزاد خیال ماں باپ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔ 

اسطرح ان بہن بیٹیوں کی عزت کے ساتھ ساتھ ان آزاد خیال والدین کی بھی عزت ختم لیکن مجاال ہے کہ ان کی آزاد خیالی ختم ہو۔

یہ بھی انتہا ہے نہ یہ ایک دوست کے کہنے پر دیا کیونکہ کے اُسنے ایک خاندان کو برباد ہوتے دیکھا ہےاور میرے یہاں شیٔر کرنے سے کسی کو عقل کے ناخن آجأیں تو میں سمجھوں کہ تحریر کا حق ادا ہوگیا اور اُس دوست کیلٔے صدقہ جاریہ۔

شکریہ

Zindagi ki pehli mukhtalif taraweeh

  
Waisay to humain arab emirates main qadam rakhtay hi aik alag jahan mila jo yaqinun har naye aanay walay k liye aik sukhoon ka bais banta hai kion k wo jahan say aaya hota hai wahan aisay halat nahin aur aisi zameen jahan har cheez nazmo zabt k tanay banay hai aur yahan qanoon ki baladasti hai jab k qanoon tornay walay ko sakht say sakht natijay ka samna karna parta hai aur reyiyat ka tasawar namumkin hai al batta wasta aisi cheez yahan dekhi jo baray say baray masalay main kargar sabit hai jis ka ittelaq khas khandan tak mehdood hai jab k is say istefada wo log bhi utha saktay hain jo khaas khandan say khaas aleg sleg rakhtay hain yani behar kaam saray nikal jatay hain
Ab aajain us tajarbay ki janib jo raqim ko paish aaya. Ramazan ki Mubarakbad jo UAE main aur paishgi Mubarakbad Pakistan main basnay walo k liye. yahan Dubai aur poray mutehida arab emarat main Ramazan ki pehli taraweeh 17 June, 2015 ko parhi gai, hum bhi pas ki Masjid main gaye taraweeh ki niyat say to tajarbay nay sabqa taraweeh jo hum Pakistan main parhtay rahay us say bilkul mukhtalif paya yahan 8 rakaat parhi gai aur hum nay bhi jaisa des, waisa bhes masdaq isay na sirf qabool kiya bal k 8 hi taraweeh parhnay par iktifa kiya jis par yahan jiraah nahin ki jasakti aur jo soodmand bhi nahin aur aik imp baat k taraweeh main mukhtalif surah ka intikhaab kiya na k Pakistan ki tarah Alif Laam Meem say aaghaz nahin kiya gaya.
Socha aap log jo Pakistan main hain aur jo nahin jantay bus un logo k liye yeh tehreer likh di umeed hai k aap k elm main izafa hoa hoga bus aap ki raaye raqim k liye bohat aiham hai us ka zaroor izhaar kijiye ga.
Aik baar phir Dil ki gheraion say UAE main basnay walay tamam Farzandan-e-Islam aur paishgi Pakistan, India aur tamam hi Muslim Umaah ko Ramazan Kareem ki bahar aik baar phir Mubarak.

Fake Cards

Fake Cards

Karachi Operation k doraan kuch inkishafaat aisay bhi hoye k jahan naqli press aur police cards to miltay hi rehte thay kuch maah pehlay rangers nay Karachi k aik elaqay say mashkok shakhs ko zer-e-hirasat liya jis k pas say jaali army ka card baramad hoa jo bohat tashweesh ki baat thi aur humari army nay us k sath jo kuch kiya hoga wo yaqinun bayan say bahir to nahin magar bayan karnay say faida bhi nahin

Ab zara dosari taraf aajain jahan humaray muashiray main Qanon ka to Dar hai hi nahin han magar apnay andar ka dar dosaro par apna asar-o-rasokh zahir kar k usay khofzadah karnay main lagay rehtay hain. Har aik ya to baray logo k sath rawabit ka charchaa karta hai ya phir apnay maal dolat par akarta nazar aata hai.

Ab aaye aik sorat aisi bhi hai jahan na to kisi baray asar-o-rasokh walay ki parchi hoti hai aur na hi rupiyaa hota hai. Ab yahan hota youn hai k kuch zeedaar log apni bachat ka rastaa kuch youn nikaltay hain k wo sahafati idaaro k jaali cards bana choti moti karguzariya kartay hain wo aisay k kahin wardi walay rokain double sawari ya phir kisi sarkari idaray main dakhil hona ho to ye card show kara kar in wardi walo ko chakmaa detay hain.

Aur muamlaa kuch latakta maloom ho to dhamkiyaa detay hain k media main uchalay gay aur ye itna mahirana andaz say saranjam derahay hotay hain k us waqt wardi wala sahab bhi roab main aajata hai aur wo bhi kion na aaye aakhir un main ziada tar to corrupt hotay hain. Agar emaandar wardi wala ho to phir natijaa aap khud akhaz kar saktay hain magar ye emaandar aaye kahan say. . ? Aisa hi silsilaa kuch police aur army k jaali cards banakar koi bhi kuch bhi kisi bhi waqt kar guzar sakta hai. Ye sab roka kaisay jaaye kia aap nahin jantay herat hai. .

Muazarat chataa hon apni raaye to aap de hi saktay hain ya phir aap bhi kisi Dar main mubtilaa hain aray aray na dain magar jaali cards to na banain aur waisay to degree to bana bana kar log aiwano tak pohanch gaye hain. Phir kisi ki baat yaad ajati hai jab bhi jaali lafz zehan main aata hai k Degree degree hoti hai wo jaali ho ya asli phir to cards cards hotay hain wo chahay jaali ho ya asli